عامر چوہان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عامر چوہان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 10 مارچ، 2015

خواتین معاشرے کی تبدیلی مں اہم جزو کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے ملک کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کر سکتی ہیں ۔آر ایل سی سی

دنیا بھر کے رسمی وغیر رسمی شعبوں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین کی جدوجہد دنیا بھر جہاں اپنا رنگ بکھیر رہی ہے وہیں پاکستان کے شہر کراچی کی خواتین بھی انمول ہیروں سے کم نہیں ہیں ۔شہرکے دامن میں موجود یہ خواتین اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنی مصنوعات باہم پہنچا رہی ہیں مگر اتنے کم معاوضے کے عوض اپنے ہاتھوں سے ان اشیاء کی تیاری کے دوران انہیں کئی اہم مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے باوجودخواتین کاحوصلہ ہے کہ ان میں آگے بڑھنے کی جدوجہد ہے یہ جدوجہد ہی آج دنیا بھر میں رنگ لارہی ہے شہر قائد کی یہ خواتین جو سماجی ،اقتصادی،ثقافتی اور بگڑے ہوئے معاشرے کی مایوسی کو تبدیل کرنے کے لئے ایک مظبوط پاکستان کی تعمیر کر رہی ہیں ۔پاکستان کی ہنرمندخواتین نے پاکستان کو بھی دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل کروایا ہے جہاں خواتین کی ترقی کے لئے بنیادی اقدامات کو فروغ دیا جاتاہے۔


1954میں بیگم رانا لیاقت نے شہر کے دامن میں (آرایل سی سی )یعنی رانا لیاقت کرافٹمینز کالونی کا سنگ بنیاد رکھا جہاں خواتین کو گھریلوں دستکاری سے متعلق تربیت دی جانے لگی رفتہ رفتہ خواتین کو تربیت اور معاوضہ بھی فراہم کیا جانے لگا کیونکہ بیگم رانا لیاقت کا مقصد صرف تربیت فراہم کرنا نہیں تھا ان کے مقاصد میں خواتین کو مکمل تربیت فراہم کرنا تھی تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں اسی طرح یہ ووکیشنل ٹریننگ خواتین کو دوسروں اہم شعبوں میں بھی تربیت فراہم کرتا ہے جہاں سے خواتین مزید آگے بڑھ سکتی ہیں ۔ان خواتین کی دوران تربیت تیار کردہ چیزوں کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے مختلف مقامات پر منعقدہ نمائش میں رکھا جاتا ہے ۔نمائش میں ان چیزوں کو فروخت بھی کیا جاتاہے جس کی آمدنی کا فائد ہ تیار کرنے والی خواتین کو ہوتا ہے کیونکہ ادارہ آر ایل سی سی بغیر کسی منافع کے ان خواتین کو تربیت فراہم کرتا ہے ان خواتین کو ان کے مقام تک پہنچانے کے لئے اپنا عملی کردار بھی ادا کرتا ہے بعض خواتین تربیت حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر آر ایل سی سی کے لئے ہی کام کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہاں کا ماحول انتہائی اچھا ہے یہاں کی خواتین ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرتی ہے اور مکمل رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے اور بعض خواتین اپنے ہی گھروں میں بیٹھ کر نا صرف آر ایل سی سی بلکہ دیگر اداروں کے لئے بھی کا م کرتی ہیں اور یوں ان کی آمدنی میں اضافے کا باعث ادارہ آر ایل سی سی ہی بنتا ہے ۔


آر ایل سی سی کے تحت ناصرف سلائی ،کڑھائی بلکہ جدید ٹیکنالوجی یعنی کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ بیوٹیشن ، مفت انگلش لیگویج کورسز ، شاپنگ بیگزکی تیاری،کشن کور کی سلائی شرٹس کی سلائی کی بھی تربیت دی جاتی ہے کیونکہ 150سے زائد چیزوں کو ادارہ آر ایل سی سی تیار کرتا ہے جنہیں پاکستان کے بیشتر ادارے آرڈر بھی تیار کرواتے ہے ان چیزوں کی تیاری کے دوران مطلوبہ اشیاء کو مارکیٹ سے خریدا جاتا ہے جس کا مکمل حساب کمپیوٹرائزڈہے تاکہ محنت کش خواتین کو ان کا مکمل معاوضہ مل سکے ۔چونکہ شہر میں شاپنگ بیگز کا استعمال زیادہ ہے اس لئے یہاں شاپنگ بیگز کو یہاں زیادہ تعداد میں تیار کیا جاتا ہے ۔شاپنگ بیگز جو آسانی سے تیار ہوجاتے ہیں یہ زیادہ خواتین کی آمدنی کا ذریعہ ہیں کیونکہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کا زیادہ وقت گھر کی دیکھ بھال میں ہی گزر جاتا ہے اس لئے وہ آسان کام کو ہی ترجیح دیتی ہیں جبکہ زیادہ تر خواتین آر ایل سی سی میں بیٹھ کر ہی کام کو سرانجام دیتی ہیں ان کے نزدیک گھروں میں کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے آر ایل سی سی انہیں کام کے ساتھ جگہ کا استعمال بھی مفت فراہم کرتا ہے ۔


آر ایل سی سی جو عرصہ دراز سے خواتین کو تربیت فراہم کر رہا ہے دراصل یہ ادارہ ان خواتین کے حقوق کی عکاسی کرتا ہے اسی لئے خواتین یہاں مکمل اعتمادواطمینان کے ساتھ یہاں کام کرتی ہیں ۔آرایل سی سی خواتین کو روزگار کے حصول کے لئے صرف تربیت ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کی صحت اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بھی مکمل خیال رکھتا ہے یہاں کام کرنے والی خواتین کے اکثر بچے آر ایل سی سی کے سکول میں معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔آرایل سی سی کلینک کمیونٹی کی ہر عورت کو صحت کی بنیادی سہولیات باہم پہنچا رہا ہے کلینک میں روزانہ کئی مریض خواتین ورکرز کے علاوہ بھی آتی ہیں ٹیم گھر گھر جاکر کمیونٹی میں ایک نشست کا اہتمام بھی کرتی ہے جس کا مقصد خواتین کو گھر کے اندر رہتے ہوئے ہی آگاہی دینا ہے ناصرف یہ بلکہ کلینک میں خواتین کو ہیپاٹائٹس بی سی ،ایچ آئی ایڈز سمیت دیگر بیماریو جنہیں علاج معالجہ کی بہتر سہولت فراہم کی جاتی ہے یہاں موجود ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ یہاں خواتین کو تمام بیماریوں سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے اوردوران زچگی خواتین کو بہتر رہنمائی بھی لیکن یہاں کسی بھی خاتون کو دوران زچگی رکھا نہیں جا تا ہے لیکن آرایل سی سی کے تحت اس ضمن میں انہیں شہر کے پرائیویٹ وسرکاری ہسپتالوں میں داخل بھی کروایا جاتا ہے ۔آر ایل سی سی جو خواتین کو مکمل با اختیا ر بنا نے کا عزم رکھتا ہے اور کئی مختلف پروجیکٹس کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنا بھی رہا ہے۔آرایل سی سی کی پروجیکٹ ایڈمنسٹریٹرکا کہنا ہے کہ آر ایل سی سی کمیونٹی کی خواتین کو مکمل بااختیار بنانا چاہتا ہے کیونکہ یہ خواتین معاشرے کی تبدیلی کا اہم جزو ہیں لہذا جامع اقدامات سمیت خواتین کو سماجی انصاف ،بنیادی حقوق کا تحفظ ،تعلیم وتربیت اور ترقی کے بھر پور مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ ملک میں خوشحالی اور ترقی کے مقاصد حاصل ہو سکیں۔


جمعرات، 19 فروری، 2015

شہر قائد کو سمندری خطرات لاحق


دنیاکے ساتویں  بڑے ڈیلٹا پر باد شاہی کرنے والے آج غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار نے پر مجبور 

ماحولیات میں موجود زہریلی ہوائیں جذب کرکے آکسیجن فراہم کرنے والے تمر کے گھنے جنگلات ختم 


لاکھوں انسانوں کی زندگی کی حفاطت کی ضمانت کے طور پر سمندر میں موجود تمر کے جنگلات کو بااثر افراد اور سا حلی وڈیروں پر مشتمل مافیا نے تیزی سے کاٹ کر شہر کراچی اور انسانی زندگیوں کو داؤں پر لگا ر کھا ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارے ما حولیات اور سمندری حیات نے دنیا بھر کے ممالک پر زوردیا ہے جس پر حکومت پاکستان نے عملدرآمد کروانے کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں لیکن ساحلی مافیا ان تمام قوانین واحکامات کے برعکس بلا ضرورت ماحولیات کی تباہی کے لئے تمر کے جنگلات کا ٹ رہی ہے بلکہ سمندر میں مٹی کی بھرائی کرکے سمندر کنارے بستیا ں قائم کرنے کے ساتھ ان پر اپنا قبضہ بھی جما رہے ہیں جس پرکراچی کی 129کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ،ماحولیات، ماہی گیر وآبی حیات کے علاوہ کراچی کے لاکھوں لوگ غیر محفوظ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ساحل سمندر اور ماہی گیری صنعت پاکستان میں جہاں معیشت کو مضبوط کرتی ہے وہی ملک کی جغرافیائی اہمیت اور فطری حسن کو بھی دوبالا کرتا ہے ۔

آبی حیات و ماحولیات کے حوالے سے سمندر میں موجود تمر کے جنگلات کی موجودگی لاتعداد فوائد وحفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔تمر کے جنگلات صرف 73001ہیکٹرز پر موجود ہیں 1985میں یہ وسعت 228812ہیکٹر تھی مگر اس صورتحال نے مچھلی کے پیداواری ذائع پر بہت برے اثرات ڈالے ہیں اور ماحولیات کی یہ تباہی سمندری طوفان کو جنم دی رہی ہے کیونکہ سندھ کا سمندری کنارہ بحرہند کی سونامی لہروں کے دائرے میں آتا ہے ۔تباہیوں کے سلسلے کی ملکی تاریخ کا جائزہ لیں تو قیام پاکستان کے بعد 1964میں طوفان آیا، 1973میں بارشوں کے سیلاب نے تباہی مچائی ،1976میں دریائی سیلاب آیا ،1994میں د وبارہ برساتی سیلاب آیا ،1999میں A-2سمندری طوفان آیا ،2005میں قیامت خیز زلزلہ آیا ،2010میں فیٹ کے نام سے سمندری طوفان آیا اور 2010میں ہی خطرناک دریائی سیلاب بھی آیا ،جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی لیکن 1999کے بعد سمندری طوفانوں کے سلسلے کے طور پر 14سال مکمل ہو گئے ہیں اگرچہ پوری دنیا میں ماحولیات میں تبدیلیاں بڑی تیزی سے رونما ہورہی ہیں اور ان کے اثرات مختلف صورتوں ،سمندروں میں طغیانی کی صورت میں نظر آرہے ہیں ۔ان تباہیوں میں ہونے والے بہت زیادہ نقصان کی وجہ حکومتی اداروں کی بروقت امدادی کاروائیاں نہ کرنا تھیں ۔ہمارے بیوروں کریٹس اور منتخب نمائندے ماضی کی غلطیوں سے کوئی بھی سبق حاصل نہیں کرتے ہیں ہم یہاں 1999کے خطرناک طوفان کا آج بھی ذکر ہو توریاست اسے A-2کے نام سے شناخت کرتی ہے جبکہ طوفان میں نہ صرف لاتعداد لو گ ہلاک ہوئے بلکہ آج بھی ماہی گیری کے دوران کشتیوں کے الٹنے ،ٹوٹنے اور ڈوبنے سے ان گنت ماہی گیر گم ہیں ۔حیران کن بات یہ ہے کہ انڈیا کی جیلوں سے 14برسوں سے قید ماہی گیروں کے خطوط آج بھی مو صول ہو رہے ہیں جو اپنی حکومت اپنے منتخب نمائندوں اور ورثأ  سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ طوفان کے باعث ہندوستان کی سرحدوں میں داخل ہو گئے تھے جنہیں قید کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا ہے اور کوئی انہیں رہائی دلانے والانہیں ہے ایک اندازے کے مطابق گوٹھ عبدالرحمان دھاندل کے 63،گوٹھ الہہ رکھیو کے 20،گوٹھ بیک بھا ڈائی کے 16،گوٹھ راج ملک کے 7،گوٹھ نور محمد چالکو کے 23، گوٹھ عمر بوریو کے 7،گوٹھ قاسم تھیمور کے 7،گوٹھ بھرونگائی کے 8،سجن واری کے 6،ضلع بدین کے گوٹھ منیچھ وسایو ولاح کے 2،گوٹھ جمعہ ولاح کے 3،گوٹھ یوسف بھٹو کے 3،کڈھن کا ایک ،رینجرزکے گیارہ جوانوں سمیت 300سے زائد انسانی زندگیاں 19مئی 1999کے سمندری طوفان کے نذر ہو گئیں تھیں جبکہ ہزاروں گھر مسمار اور متعدد گوٹھ ویران ہوئے ،2ہزار سے زائد کشتیاں ڈوب گئیں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہوگئی اور ہزاروں مویشی مرنے کے ساتھ روڈ راستے اور سکولوں کی بلڈنگیں بھی تباہ ہوئیں ،اس وقت بھی موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف ہی تھے جنہوں نے بروقت متاثرین کی مدد کے لئے 55کروڑ روپے دینے گوٹھ عبدالرحمان دھاندل کو ماڈل ولیج بنانے اور زندگی کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا ،وزیراعظم نوازشریف نے تین مرتبہ متاثرہ ساحلی پٹی کا دورہ کیا اس کے علاوہ پنجاب ،خیبرپختونخواہ ،بلوچستان کے وزیراعلیٰ ،وفاقی وصوبائی وزراء اور دیگر ممالک کے سفیروں و اہم شخصیات بھی متاثرہ ساحلی پٹی کا جائزہ لیا ،اور متعدد سیاسی وسماجی شخصیات سمیت ملک کی اہم شخصیات نے اشیأ  خوردنوش سے لیکر ضروریات زندگی وہ تمام چیزیں دی جن کی اس وقت ان متاثرین کو ضرورت تھی ،وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو ،کشتیاں ڈوبنے اور جن کی فصلیں تباہ ہوئی ان کے لئے الگ الگ معاوضے کا اعلان بھی کیا تھا اگر کسی گھر کا کفیل ہلاک ہونے والوں میں شامل تھا تو اس کے لواحقین کو ایک لاکھ روپے ،فی کشتی کے 10ہزار اور فی گھر 25ہزار روپے مقرر کئے گئے ،دکھ اگلتی سندھ کی یہ ساحلی پٹی 350کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے جہاں 12لاکھ سے زائد لوگ سمندر سے مچھلی کا شکار کرکے روزگار حا صل کر رہے ہیں ۔

سندھ کا ساحلی علاقہ بنیادی طورپر انڈس ڈیلٹا کا علاقہ ہے جہاں دریائے سندھ کا میٹھا پانی سمندر میں داخل ہوتا تھا یہاں انڈس ڈیلٹا کا ذکر صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ انڈس ڈیلٹا ساحلی پٹی پر لاکھوں لوگوں کے علاوہ زراعت ماہی گیر ی اور ماحولیات پر مشتمل مکمل زندگی ہے۔دریائے سندھ کی17بڑی کریکس کے ذریعے میٹھا پانی سمندر میں داخل ہوکر روزگار کے نئے ذرائع مہیا کرتا تھااورماضی میں چونکہ یہاں بڑی بڑی بندرگاہیں موجود تھیں جہاں سے کاروبار ہوتا تھا ڈیلٹائی علاقوں کے چاول مکھن اور دستکاری کا سامان موجود تھا ۔دنیا کے ساتویں بڑے ڈیلٹا پر باد شاہی کرنے والے آج غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں ماضی کے قصوں کی بجائے اگر موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اعتبار ہی نہیں ہوتا کہ کس طرح سندھ کی ساحلی پٹی کو تباہ کرنے کی سازش کامیاب ہوئی ۔کوٹری ڈاؤن میں پانی نہ چھوڑنے سے سمندر کے آگے بڑھنے کی وجہ سے 40لاکھ ایکڑ زرعی زمین تباہ ہوچکی ہے اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ کے ڈیلٹائی اضلاع کے شمالی علاقوں کی زمین سیم تھور کے زیراثر آگئی ہے سمندر کے آگے بڑھنے کی وجہ سے تقریبا12لاکھ 20ہزار 360دیہہ ہیں جن سے 28دیہہ پر سمندرآگے بڑھ آیا ہے جبکہ 14دیہہ کو سمندر نے بری طرح متاثر کیا ہے کیٹی بندر وہ دریائی بندر تھا جہاں بیوپاری انڈونیشیا ء ،ملائیشیاء ،کیرالہ اور چین سے بیوپارکرتے تھے اس وقت جن علاقوں پرسمندر آگے بڑھ آیاہے وہاں لال چاول کی فصل ہوتی تھی جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتی تھی اب وہاں چاول کی فصل صرف 54ایکڑ پرکاشت ہوتی ہے تعلقہ کھاروں چھان میں 235,485ہیکٹرز پر مشتمل 42دیہہ تھیں ۔سمندر نے وہا ں کے20,426ہیکٹرز کو تباہ کردیا ہے اب یہ زمین نہ فصل اگاتی ہے اور نہ ہی دوسرے کسی استعمال میں آسکتی ہے اس طرح تعلقہ گھوڑا بازی میں 231,980ایکڑ ز کی61دیہہ تھیں جن سے 14دیہہ سمندر نے برباد کردی ہیں ساتھ ہی 38,587ایکڑ ز زمین سمندر نگل گیا ہے ۔کھاروچھان کا علاقہ جس کو لال چاولوں کا مرکز کہا جاتا تھا وہاں اب ایک ایکڑ بھی فصل نہیں اگتی ۔کیونکہ دریائے سندھ کی کریکس میں میٹھا پانی آنا بند ہوگیا ہے کھاروچھان کے مغرب میں کیلے ،پپیتے اور زیتون کے باغات ہوتے تھے جو اچھی آمدنی کا ذریعہ تھے اب وہ باغات والی زمین دلدل میں تبدیل ہو گئی ہے انڈس ڈیلٹا میں ماحولیاتی تباہی کے بعد جو سب سے بڑاانسانی المیہ پیدا ہوا وہ نقل مکانی کی صورت میں سامنے آیا ان علاقوں میں کچھ ایسے مشہور دیہات بھی ہیں جو اب ویران ہوگئے ہیں ڈیلٹا میں حالات رہنے کے لائق نہ ہونے کی وجہ سے لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں جن میں کراچی ،حیدرآباد ،بدین اور ٹھٹھہ شامل ہے نقل مکانی کے علاوہ ڈیلٹا کے لوگ روزگار کے لئے اپنا پیشہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ،زراعت مال مویشی اور مچھلی پکڑنے والے لوگ نئے نئے پیشے اختیار کرتے ہیں جن میں ان کی کامیابی کی ضمانت کم ہوجاتی ہے ۔مال مویشی کا چارہ ختم ہونے کی وجہ سے لوگ مویشی فر وخت کرنے لگے ہیں متعدد لوگوں کا گزر بسر اب تمر اور جنگلی کیکر کو کاٹ کر انہیں بیچ کر ہوتا ہے جو گیلی 150اور سوکھی 250میں فروخت ہوتی ہیں ڈیلٹا میں جو پہلے خوشحال زمیندار تھے اب وہ تباہ ہوگئے ہیں اس تباہی کی وجہ سے یاتو وہ نقل مکانی کرکے کسی اور پیشہ سے وابستہ ہوگئے ہیں یا پھر ماہی گیری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اعدادوشمار بتاتے ہے کہ ڈیلٹائی عوام کی نقل مکانی کی تعداد 35سے40فیصد ہے ستم یہ کہ لوگوں کے پاس پینے کا پانی تک میسر نہیں ان کے بچے تعلیم جیسے قیمتی زیور سے بھی آراستہ نہیں ہو رہے ہیں اور ان کی صحت کے لئے ہسپتال ومطلوبہ علاج کی سہولت تک میسر نہیں ہیں ۔دوسری جانب حکمرانوں کی بے حسی عدم دلچسپی اور خاموشی کی وجہ سے لالچی اور مفاد پرست لوگوں نے سمندر میں موجود تمر کے جنگلات کی کٹائی کرکے سمندری لہروں ہواؤں اور طوفانوں کو روکنے والے تمر کے جنگلات کی دیوار گرادی ہے اس لئے نئے خطرات بغیر کسی روک تھام کے لوگوں ،گھروں و دیگر وسائل کو تباہ کررہے ہیں پاکستان قائم ہونے پہلے اب تک طوفانوں ،زلزلے ،بارشیں ،سیلاب اور تباہیاں آئی ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے اگرچہ یہ بات واضح ہو ہوگئی ہے کہ ہردس سال کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ سندھ کی ساحلی پٹی تباہی کی زد میں آتی رہی ہیں ۔ساحلی رہائش پذیر زیادہ تر ماہی گیر ،مال مویشی چرانے والے اور زرعی آبادگار ہیں ۔زراعت پر دارومدار رکھنے والی آبادی اس وقت تمر کے جنگلات کی طرف رخ رکھتی ہے جب بارشوں کے موسم میں دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور آبادی کے لائق زمینیں زیرآب آجاتی ہیں اس لئے اس عرصے کے دوران تمر کی عمارتی لکڑی اور جلنے والی لکڑیوں کا استعمال بڑھنے کی وجہ سے دباؤبڑھ جاتا ہے ۔ماہی گیر اکثر اکتوبر سے مئی تک مصروف رہتے ہیں کیونکہ اس دوران اپنے خاندانوں اور دیہاتوں کو چھوڑ کر مچھلی اور جھینگوں کے شکار کے لئے ساحلی کریکس کے آس پاس میں عارضی جگہوں پر رہتے ہیں ۔بنگالی اور برمیوں کی خالی کی ہوئی کتنی جھونپڑیاں ان علاقوں میں موجود ہیں جن کو مچھلی کے شکار کی موزوں جگہ سمجھی جاتی ہے مچھلی کا شکار کرنے والے لوگوں کو اویسنیا قسم کے تمر کے درخت3میٹر لمبی لکڑی بھی چاہئے ہوتی ہے جن سے وہ اپنے جال باندھ کر چھوٹی کریکس سے وہ مچھلی شکار کر سکیں البتہ ایسی لکڑیوں کی طلب اب کم ہوگئی ہے جب سے ٹرالرزآئے ہیں اور کشتیوں میں ڈیزل انجن لگ گئے ہیں پیشہ ور مال مویشی رکھنے والے ڈیلٹا کے لوگوں کے پاس ساحلی جزیروں پر رہنے کے لئے اونٹ ہوتے ہیں جن کے چاروں طرف کریکس ہیں کیونکہ لہرآنے کے دوران اونٹ پانی میں تیر سکتا ہے عام طورپر اونت پالنے کی جگہ ویسے تو سارا سال ہی ہوتی ہے پر سیلاب وبارشوں کا موسم ختم ہوتے ہی انہیں اندرونی علاقوں کی لے جایا جاتا ہے اگرچہ سیلاب کم ہونے سے یہ سلسلہ کم ہوگیا ہے ساحل سمندر کے دیہاتی اب اپنا مال مویشی آسانی کی جگہوں پر چراتے ہیں جہاں مویشیوں کا چارہ تمر کا اویسنیا کی جنس ہوتا ہے ساحلی دیہاتوں کی انسانی آبادی تمر کے درختوں کو بہت زیادہ استعمال میں لاتی ہیں تمر کے درخت روایتی طور پر عمارتی لکڑی مویشیوں کے چارے اور جلانے کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے غریب آبادی کے غریب اکثر گھروں کی تعمیر کے لئے اویسنیا میرینا تمر کی جنس استعمال کرتے ہیں لیکن تمر کی لکڑی کا زیادہ استعمال جلانے کے طور پر کیا جاتا ہے۔تمر کی لکڑی جلانے کا سستا اور آسان ذریعہ ہے البتہ جہاں گیس ہے وہاں تمر سے جلانے والا دباؤکم ہوگیا ہے ما ضی میں تمر کے درخت اتنے کمزوراورٹیڑے میڑے وتباہ حال نہیں ہوتے تھے جیسے اب نظرآتے ہیں ۔تمر کی موجودہ حالت ان کے استعمال والے نمونے اور میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے ہوئی تقریبا پانچ سوسال پہلے دریائے سندھ شاہ بندر کے پاس سے سمندر میں شامل ہوتا تھا تب وہاں تمر کے جنگلات لمبے اور گھنے ہوتے تھے اس زمانے میں بیو پاری کشتیاں جو درمیانی مشرقی ممالک اور ایشیاء کے بیچ پر لمبے سفر کے لئے آتے تھے ا س وقت پاکستان میں کوئی بھی تمر کا مصرف یا استعمال نہیں تھا کیونکہ نمک کو تیار کئے جانے کی وجہ سے وہاں تمر کے درخت تباہ ہورہے تھے۔کراچی کے ساحلی علاقوں ککا ولیج ،کیماڑی ،ابراہیم حیدری ریڑھی گوٹھ ،کیٹی بندر کھاروچھان ،جاتی اور شاہ بندر کے علاقوں میں بااثرافراد نے منظم طریقے سے سمندر کے کناروں پر بھرائی کرکے قبضے کر لئے ہیں اور اس پر ااواز اٹھانے والے کئی ماہی گیر لینڈ مافیا کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں جبکہ قاتل آزاد دندناتے پھر رہے ہیں پوری ساحلی پٹی پر قابض وڈیرے بڑی ہی تیزی کے ساتھ تمر کے درختوں کی کٹائی کرکے ٹرکوں اور گدھا گاڑیوں کے ذریعے مارکیٹوں اور کارخانوں میں فروخت کر رہے ہیں تمر کے جنگلا ت کو مقامی بااثرافراد غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے میں ٹھیکے پر دیتے ہیں جو 200روپے دیہاڑی پر مزدور رکھ کر کٹائی کرواتے ہیں یہ مافیا تمر کے جنگلات کی کٹائی اندر سے کرواتے ہیں تاکہ کٹائی ظاہر نہ ہو سکے اور وہ ظاہر نہ ہو سکیں اس ضمن میں کٹائی کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہم کوئی ٹھیکیدار یا وڈیرے نہیں بلکہ مزدور ہیں ہم ان ٹھیکیداروں کو صرف تمر کی لکڑیاں کاٹ کر دیتے ہیں جنہیں بعد میں سمندری کناروں پر کشتیوں کے ذریعے لایا جاتا ہے۔تمر کی لکڑی کا ایک ٹرک 800اور گدھا گاڑی والا 200روپے کرایہ وصول کرتا ہے جبکہ ٹھیکیدار1000روپے من کے حساب سے فروخت کرکے لاکھوں روپے کماتے ہیں تمر کی کٹائی میں اندھی کمائی دیکھ کر کراچی سے کیٹی بندر تک لالچی اور مفاد پرست افراد اس میں لگ گئے ہیں جس کے باعث تمر کے جنگلات سمندر سے بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہورہے ہیں اور سمندر کے کناروں پرماہی گیروں کی آبادیاں غیر محفوظ ہو رہی ہیں تمر کے جنگلات ماحولیات ،انسانی اور آبی حیات کے زندہ رہنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تمر کے جنگلات ماحولیات میں موجود زہریلی ہوائیں جزب کرکے آکسیجن فراہم کرتے ہیں جڑوں میں جھینگے کی افزائش اورحفاظت کرتے ہیں تمر کے گھنے جنگلات تیز ہواؤں اور سمندری لہروں کو روک کر انسانی آبادی کو طوفانوں کی تباہی سے روکتے ہیں اگر جنگلات ختم ہوگئے تو سب سے بڑا نقصان کراچی شہر کو ہوگا اور سونامی جیسے طوفانوں کو روکنے کے لئے کوئی فطری چیز نہیں ہوگی ۔محکمہ جنگلات کے چھوٹے افسران کی رشوت اور بھتہ خوری نے تمر کی کٹائی کو تحفظ فراہم کر رکھا ہے جس پرمحکمہ ماحولیات خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جبکہ سمندری کناروں کے قریب تمر کے جنگلات کو کاٹ کر مٹی کی بھرائی کرکے سمندر کو زمین میں تبدیل کرکے قبضے کئے جارہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی قانونی ادارے اس عمل کو روکنے میں لاچار ہے اگرچہ تمر کے جنگلات ڈیڑھ سو برس پہلے انڈس ڈیلٹا کی مناسبت سے 6لاکھ ہیکٹرز پر تمر کے قد آور درخت کراچی سے سی کریک تک تھے اب کراچی میں ساڑھے چار لاکھ کی جگہ 58ہزار درخت رہ گئے ہیں چونکہ ایک ہیکٹر میں 2.5ایکڑ ہوتے ہیں دریائے سندھ کا پانی انڈس ڈیلٹا میں پھینکنے سے تمر کے چھوٹے پودوں کو غذا ملتی تھی 1892میں ایک سو پچاس ملین ایکڑ فیٹ پانی دریائے سندھ کا پانی بحرہ عرب میں گرتا تھا کیونکہ اس خطے میں دریا اور پانی تھا لیکن بڑی تیزی کے ساتھ ان کی کٹائی کے باعث اب ایک لاکھ چھیاسی ہزرا ہیکٹرز پر تمر کے جنگلات سمندر کے ساحلی علاقوں پر رہ گئے ہیں عمو ما رہ جانے والے درخت تناور وقد آور کی جگہ چھوٹے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ تمر کا ایک پودا ہی ایک سپاہی کی حثیت رکھتا ہے یہ ہمارے لئے خدا کی نعمت ہے کہ باقی بچے درخت کھارے پانی میں موجود ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی دارے، ماحولیات کیلئے کام کرنے والی این جی اوز اورکراچی کے ؂مقامی افراد تمر کے جنگلات کے تحفظ وافزائش کے لئے عملی مگر موثر اقدامات اٹھائیں تمر کی کٹائی اور سمندر میں مٹی کی بھرائی کر کے قبضہ کر نے افرابااثرد کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے کیونکہ یہی موثراقدام سیلاب سے بچاؤ،ماحولیات کی بقاء،تمرکے جنگلات کے تحفظ اور لینڈمافیاسے بچاؤکی ضمانت ہوسکتے ہیں۔

جمعہ، 9 جنوری، 2015

کیا دس برسوں میں مزدور کی قسمت بدلے گی

پاکستان میں جی ایس پی پلس سکیم اور مزدور۔۔۔۔۔۔!


سرمایہ داروں کی چاندی مگر مزدور کی صحت اور سماجی تحفظ تک رسائی ممکن نہیں ۔۔؟


پاکستان کو جنو ری 2014 میں یورپی یونین کی جانب سے یونین میں شامل ملکوں کو دس برسوں کے لئے بلا ٹیکس ٹیکسٹا ئل و گارمنٹس کی برآمدگی کے لئے جی ایس پی پلس کا درجہ ملے ایک برس بیت گیا اس دوران صنعت کاروں کو اپنی برآمدی مصنوعات میں ڈیوٹی کی چھت ملنے سے خاصا منافع بھی ہوا ہے اور اس ضمن میں حکومت کو زر مبادلہ میں خاصی آمدنی بھی ہوئی لیکن معیشت اور محنت کی مثلث کے تیسرے فریق یعنی مزدور کے حالات پر کوئی واضح اثر نہیں ہوا ہے۔


 دسمبر 2013میں جب یورپی یونین نے پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس اسکیم کی منظوری کا اعلان کیا تو حکومت و سرمایہ داروں کی طرف سے جاری بیانات میں کہا گیا کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ان 27عالمی کنوینشنز کی پابندی کی مد میں تسلیم کر لیا ہے مگر پاکستان کے محنت کش تاحال مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں مزدوروں کو ملازمتوں کا تحفظ و صحت کی بنیادی سہولیات جو سرے سے موجود نہیں ،سماجی تحفظ ،یونین سازی ،اجتماعی سودا کاری کے حقوق کی پامالی ،ٹھیکے داری سسٹم جیسے مسائل نے مزدوروں کی زندگی دوبھر کرکے رکھ دی ہے ۔جس سے سرمایہ دارو ں کی آمدنی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے ۔یورپی یونین نے پاکستان کو تجارت کی ترجیحی سہولتیں فراہم کرتے وقت برآمدی اشیأ پر چھوٹ دراصل موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی غرض سے دی تاکہ بین الاقوامی معاہدوں و عالمی مزدور قوانین کے تحت انسانی حقوق جن میں مزدور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال کو بھی بہتر بنانے کی شرط تھی جس میں یورپی یونین نے آئی ایل او کنونشنز کی نگرانی بذات خود کرنا تھی تاکہ اس پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جاسکے اس ضمن میں پاکستان کو خاصا نقصان ہونے کا بھی اندیشہ ہے اس کے باوجود حکومت اور سرمایہ کار یورپی یونین کی شرط سے غافل دکھائی دیتے ہیں لیکن پاکستان ریاست کو اس معاملے میں پابند کرتا ہے کہ وہ معاشرے کے ان تمام بالغ افراد کو روزگار دے کیونکہ پاکستان انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں میں ناصرف شریک ہے بلکہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن بنیادی اور دیگر کنوینشنز کی توثیق بھی کر چکی ہے لیکن قومی سطح پر قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف بین الاقوامی کنوینشنز بلکہ ملک کے مزدور ضابطوں پر عمل خاصا کمزور دےکھائی دیتا ہے۔ سال 2010میں جب اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت شعبوں کو صوبوں کے اختیار میں دیے جانے کے بعد ملک کے تمام صوبوں نے اپنے طور پر انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ وضع کیا جس کے نتیجے میں کہیں ایک مقامات پر مزدور کو فائدہ ہوا اور کہیں بہت زیادہ نقصان بھی ہوا ہے کیونکہ قومی سطح پر مزدوروں سے متعلق قانونی فریم ورک یعنی فیڈرل لیبر قوانین موجود نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کو اپنی من مانی کا اختیار مل گیا ہے ۔


 وفاقی حکومت کی سطح پر قانونی فریم ورک تیار ہونے چاہئے جس میں مزدوروں کے بنیادی حقوق کے معیارات اور صوبوں کی حدود بھی متعین کی جائے تاکہ صوبے تسلیم شدہ معیارات سے ہٹ کر قانون نہ بنا سکیں البتہ پاکستان کے مزدور گزشتہ67برسوں سے نافذ کی جانے والی چھ پالیسیوں کی قانون سازی سے محروم رہے ہیں اور یہ چھ پالیسیاں کبھی بھی مزدور دوست قوانین کا روپ نہیں دھار سکیں۔سال 2001,1972,1969,1959,اور2010میں نافذکی جانے والی لیبر پالیسی میں ستم یہ کہ محنت کشوں کا یونین سازی کا حق بھی تسلیم نہیں کیا گیا تھا ۔اٹھارویں ترمیم کے چار برس بعد پنجاب نے تینوں فریقوں کی مشاورت کے بغیر لیبر پالیسی 2014 ڈرافٹ تیار کی اگر وفاقی سطح پر فریم ورک ہوتا تو مزدوروں کے حقوق پر کوئی ضرب نہ پڑتی بلکہ صوبوں کو اپنے خطے کے مخصوص حالات اور معیشت کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی لیبر پالیسی وضع کرنے میں بھی آسانی ہوتی کیونکہ محنت کے ہر شعبے میں کارکنوں کےلئے محفوظ ماحول اور سلامتی کے اقدامات کا نہ ہونا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان لیبر حقوق پر عمل درآمد کے حوالے سے پچھلی چھ دہائیوں میں کبھی بہتر حیثیت میں نہیں رہا ہے پاکستان میں غیر رسمی معیشت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس مناسبت سے جی ڈی پی میں اس کی شرح تقریبا %73.8تک جا پہنچی ہے ٹیکسٹائل کو پاکستان کی بر آمدی آمدنی حاصل کرنے والا شعبہ خیال کیا جاتا ہے حد تو یہ کہ ٹیکسٹائل کے شعبے نے 2012-13کے مالی سال میں 18ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کیں لیکن اس کے باوجود صنعتیں مزدوروں کو اےک آبرومندانہ اور کم سے کم اجرتیں دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔پاکستان کی کل شہری افرادی قوت کا تقریباً %40ٹیکسٹائل انڈسٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں جن میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے ۔پاکستان نے سال 2012-2013میں 1.3ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں لیکن صنعت سے وابستہ مزدوروں کا پھر بھی کوئی پرسان حال نہیں اسی لئے شہر لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ مقامی لیبر قوانین کے دائرے سے خارج ہوتا جارہا ہے کیونکہ متعدد مزدور کام کے دوران صنعتی حادثات میں زخمی یا پھر موت کا شکار ہوتے ہیں اس بات کا اندازہ 2012میں کراچی کی بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی آگ اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں مزدوروں کے زخمی اور ہلاک ہونے کے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔اس کے باوجود فیکٹریوں میں حادثات سے بچاؤ،انہیں روکنے یا مرنے اور زخمیوں کی دادرسی کا نظام تک موجود نہیں ہوتا ملک میں موجود قوانین کے تحت محنت کشوں سے متعلق حقوق انتہائی محدود ہیں ان کا اطلاق صرف مزدوروں کی قلیل تعداد پر ہوتا ہے جو منظم شعبے کی بڑی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں ۔بین الاقوامی سطح پر سماجی تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے تسلیم بھی کیا جاتا ہے اور پاکستان کے آئین کی دفعہ 38کے تحت ریاست یہ ذمہ داری سماجی تحفظ کے ادارے قائم کر کے پوری کرنے کی پابند ہے اس ضمن میں قوانین کے تحت کئی ادارے تو قائم ہیں لیکن ان کی کارکردگی محدود ہے اسی لئے ان اداروں کی سہولتوں کا فائدہ صرف %5محنت کشوں کی ہی ملتا ہے اس غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے زرعی شعبے کے مزدوربلکہ بھٹہ ،دکانوں ،ٹرانسپورٹ کے مزدور ان سہولتوں سے محروم رہ جاتے ہیں سماجی تحفظ کی سکیموں کی اہمیت کا حکومت کو احساس نہیں اسی لئے وہ ہر سال اس مد میں رقوم کم کر رہی ہے جبکہ سماجی تحفظ کی سکیموں میں غیر منظم شعبے خصوصا زرعی شعبے اور ٹرانسپورٹ کے مزدوروں کو شامل کیا جائے جو ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے شعبے ہیں جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بناتی بلکہ معیشت کے تمام شعبوں کوسماجی تحفظ کے دائرے میں لاتے ہوئے مزدوروں کو از خو د ان اداروں کو فعال بنانے کے لئے کرپشن سے پاک نظام قائم کرنے کے ساتھ ان کے فنڈز میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرے ۔زراعت جو کہ ملک میں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے زرعی مزدور لیبر قوانین اور اس کی اہمیت سے ناواقف ہے زرعی مزدور کو اس مناسبت سے صحیح آگاہی میسر نہیں جو اس کا حق ہے جبکہ عوامی سطح پر اس بات کا بار بار اسرار کیا گیا کہ زرعی شعبے سے وابستہ ان تمام مزدوروں کو بھی لیبر قوانین کے تحت حقوق فراہم ہو جو انہیں ملنے چاہئے تھے لیکن سازگار اداروں میں جاگیرداروں کی اکثریت کی وجہ سے زرعی شعبے سے وابستہ مزدوروں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے ۔جی ایس پی پلس سکیم کی سہولت کے بعد نا صرف یورپی یونین بلکہ بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی پاکستان سے کپاس برآمد کرنے والوں پر یہ شرط عائد کررکھی ہے کہ وہ کھیت کے مزدوروں کو ان کا جائز حق اداکریں گے اس مد میں حکومت سندھ نے سال 2013میں زراعت کے شعبے کے تمام مزدوروں اور کسانوں کو یونین سازی اور اجتماعی سودا کاری کا حق دیا اب وفاقی حکومت بھی کھیت کے مزدوروں کو صنعتی مزدوروں کے برابر حقوق دینے کے لئے اقدامات بروئے کار لائے اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے لیبر انسپیکشن کنوینشن 129نمبر کی توثیق بھی کرے ۔ پاکستان انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کنوینشن 100برائے مساوی اجرت اور کنوینشن 111ملازمت اور روزگار میں تفریق کے خاتمے کی توثیق بھی کرچکا ہے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد ان کنوینشنز پر عمل کروانا اب پاکستان کی ذمہ داری ہے کیونکہ پاکستان میں خواتین مزدوروں کی شرح چونکہ کم ہے پھر بھی انہیں اجرت مردوں کے مقابلے میں کم ملتی ہے جبکہ پاکستان کا آئین ہر سطح پر مردوں اور خواتین کو مساوی حقوق کے فراہمی کی ضمانت دیتا ہے پاکستان اس ضمن میں عورتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے کنوینشن CEDAWپر بھی دستخط کر چکا ہے ۔لہذا جی ایس پی پلس سکیم میں شامل ملکوں کے برآمد کنند گان کو اپنی استعداد میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ پیداواری حجم کو بڑھاےا جائے جس کے لئے خام مال اور انسانی وسائل کے علاوہ انہیں بنیادی ضروریات یعنی بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی کی بھی ضرورت ہے۔ پیداوار کے لئے درکار یہ عوامل برآمدی صنعت کو دستیاب نہیں ہیں البتہ جی ایس پی پلس سکیم پاکستان کی سکڑتی ہوئی معیشت کے پیش نظر دی گئی تاکہ پاکستان میں مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہیں کیونکہ جی ایس پی پلس سکیم ملکوں کو 27بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا پابند کرتی ہے اس درآمدی سکیم میں اب پاکستان امریکہ کے ساتھ بھی تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کے لئے جلد مذاکرات شروع کرنے جارہا ہے ۔کیونکہ حکومت برآمدات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے کے عمل میں سنجیدہ دیکھائی دے رہی ہے لیکن ہنر مند مزدورں کی یوٹیلیٹیز کی بلا تعطل فراہمی اور شہر میں امن امان کی خراب صورتحال کے باعث سنگین قلت ہے اس کے باوجود صوبائی حکومتیں لیبر ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہی ہیں ۔صوبوں کے لیبر محکموں کو اور زیادہ سرگرمی باالخصوص فیکٹریوں میں بنیادی لیبر حقوق پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت نگرانی اور کام کی جگہوں پر صحت و تحفظ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے عمل کو بھی شروع کر رکھا ہے ۔حکومت پاکستان انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے 36کنونشنز بشمول آٹھ بنیادی کنونشنز کی بھی توثیق کر چکی ہے جس کے تحت ریاست پر ذمہ داری ہے کہ وہ لیبر قوانین کا نفاذ کرے اور ضروری ادارہ جاتی نظام تشکیل دے تاکہ نگرانی کے موثر طریقہ کا ر کے ذریعے ان حقوق پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے 18ویں آئینی ترمیم اور اختیارات کے عدم ارتکاز کے بعد صوبائی لیبر محکموں کے لئے لازمی ہے کہ وہ مقامی لیبر قوانین کو فوری طور پرصوبائی شکل دیں اور قوانین کے اطلاق کے متعلق تقاضوں کو بھی پورا کیا جائے کیونکہ صوبائی محکمہ ٹیکنیکل صلاحیتوں کے فقدان اور محکموں کے اندر وسائل کی کمیابی کے باعث ان میں سے ابھی تک کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے ۔اسی لئے سندھ حکومت نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تعاون سے ایک سہ فریقی مشاورتی عمل کے بعد کام کی جگہ پر تحفظ کے لئے مشترکہ ایکشن پلان تیار کیا ہے جو جوائنٹ ایکشن پلان پاکستان باالخصوص صوبہ سندھ میں کام کی جگہوں پر بین الاقوامی لیبرمعیارات پرعمل درآمد کے لئے رہنما اصول کے طور پر کردار ادا کرے گا ےہ جوائنٹ ایکشن پلان تین اہم موضوعات کا احاطہ کرے گا یعنی کام کی جگہ پر پیشہ ور رانہ تحفظ اور صحت ،لیبر انسپیکشن کا نظام ،مزدوروں کا سماجی تحفظ ،جہاں تک جی ایس پی پلس سے متعلق کنوینشنز پر عملدرآمد کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے سرکاری محکموں پر حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر بین الاقوامی معاہدوں کے ضمن میں عمل درآمد کر نے کی زمہ داری عائد ہوتی ہے جی ایس پی پلس پر بھی اس اصول کا اطلاق ہوتا ہے اس مقصد کےلئے حکومت سندھ نے ان 15وفاقی لیبر قوانین کو صوبائی شکل دینے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے جو صوبے میں جی ایس پی پلس کے کنوینشنز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ضمن میں بہت ضروری ہیں اس میں موجودہ لیبر قوانین مین ترامیم کرنے کا عمل بھی شامل ہے تاکہ انہیں بین الاقوامی لیبر معیارات سے ہم آہنگ کیا جاسکے ۔



سندھ کا محکمہ محنت مذکورہ بالا مسائل اور چیلینجز پر قابو پانے کے لئے مزدوروں اور سول سوسائٹی و مزدوروں کی تنظیموں کی خصوصی معاونت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اسٹاف کی تربیت ،لیبر قوانین اور کام کی جگہ پر تحفظاتی اقدامات کی جانکاری کے کام میں سہولت حاصل ہوسکے ۔ اگرچہ وفاقی اور صوبائی لیبر محکموں میں ترقیاتی فنڈکی رواں منتقلی نہ ہونے کے باعث ان اداروں میں ٹیکنیکل سٹاف سپورٹ کی عدم دستیابی بھی ہے کیونکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اندر آئی ٹی کی سہولیات کےلئے فنڈز کی کمیائی پائی جاتی ہے جبکہ سرکاری محکموں میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کو سب سے کم زور محکمہ تصور کیا جاتا ہے اسی لئے حکومت بھی اسے بہت کم فنڈز مہیا کرتی ہے ۔جی ایس پی پلس سکیم کے تحت 27کنوینشنز باالخصوص انسانی لیبر حقوق سے متعلق 16کنونشنز پاکستان کے اندر لیبر حقوق کے مجموعی حیثیت پر اپنا مثبت اثر ڈال سکتے ہیں جی ایس پی پلس سکیم کو اگر تعمیر و ترقی کے ایک موقع کے طور پر اختیار کیا جائے تو یہ پاکستان کے لئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جس کی افا دیت محض براہ راست مالی فوائد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس پردیانت داری سے عمل اور نگرانی کر لی گئی تو یہ سکیم پاکستان میں مزدوروں کے حقوق اور مالیاتی و انسانی حقوق کی حیثیت کو بھی بہتر بنانے کے ضمن میں موثر کردار ادا کرے گی ۔مزید براں جی ایس پی پلس سے متعلق کنوینشنز پر عمل درآمد کے ضمن میں جن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ان مشکلات سے بخوبی نمٹنے کے لئے حکومت اور سرمایہ کاری کرنے والی تنظیموں کو چاہیئے کہ جی ایس پی پلس کنوینشنز باالخصوص جن کا تعلق ماحولیات سے ہے ان پر سختی سے عمل درآمد کروائیں اور خود بھی کریں ،حکومت لیبر ڈیپارٹمنٹ میں ان فیکٹریوں کے اندراج کو یقینی بنائے جو شہر کے صنعتی ایریامیں کام کررہی ہیں اور مزدور تنظیمیں تمام صنعتی یونٹوں میں مقامی لیبر قوانین پر عمل درآمد بنانے کے ضمن میں اپنا رضاکارانہ کردار ادا کریں حکومت تاجروں کو سہولیات کے ساتھ تحفظ بھی فراہم کرے ،حکومت بنیادی لیبر حقوق اور مقامی لیبر حقوق پر باقاعدہ عملدرآمد کے لئے کمیٹی تشکیل دے اور تجارتی تنظیمیں لیبر حقوق اور بین الاقوامی کنوینشنز پر عمل درآمد سے متعلق آگاہی ورکشاپس کا انعقاد اور ملکی میڈیا مزدوروں کے مسائل کو وقتا فوقتا اجاگر کرے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کس حد تک جی ایس پی پلس سکیم پر پاکستان میں عمل کروایا جا رہا ہے ۔

پیر، 22 دسمبر، 2014

جناح اسپتال میں صفائی اور شجرکاری مہم

کلین کراچی اور کلین جناح پروجیکٹ میں طالبعلموں کی سرگرمی

شہر کراچی جسے ماضی میں مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا کسی نے کروکالا، سکندری جنت،  کولاچی اور کسی نے کولاچوں کا خطاب دیا مگر نام کوئی بھی ہو یہ شہر پہلے صرف منوڑہ سے کھارادر تک محیط تھا اس شہر کے چاروں طرف فصیلیں تھیں اور شہر کی جانب دو دروازے میٹھا در اور کھارادر کے نام سے کھلتے تھے اس دور میں جن سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا وہ اسے گندگی کا شہر کہتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ شہر میں جگہ جگہ ندی نالے اور جوہڑ نظر آتے ہیں اور ان سے ہر وقت بد بو آتی رہتی ہے ان کی عورتوں کے بالوں میں تیل ہی تیل نظر آتا ہے جن کے قریب جانے پر ایک عجیب سی ناگوار بو آتی ہے۔ یہ دراصل قیام پاکستان سے قبل بلکہ ماضی میں اس شہر کا نقشہ تھا مگر قیام پاکستان کے بعد جب بلدیہ عظمی اپنا وجود رکھتی تھی تو نہ صرف اس شہر کو وسعت ملی بلکہ اس شہر میں صفائی ستھرائی کے عمل میں تیزی آئی اور شہر صاف ستھرا نظر آنے لگا لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے پھر بھی صفائی ستھرائی کا عمل اس طریقے سے انجام نہیں پاسکا جس طریقے سے ہونا چاہئے تھا مختلف ادوار میں مختلف ناظمین، ایڈمنسٹریٹر ز نے شہر کی صفائی ستھرائی کے لئے خوب کوششیں کیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی بلکہ اکثریت فیل ہوگئی۔



کراچی کا جناح اسپتال روزآنہ صوبہ بھر سے آنے والے پانچ ہزار  سے زائد مریضوں کو علاج فراہم کرتا ہے۔ شہر کے اس بڑے ہسپتال میں وارڈوں کے گرد گھومتے ہوئے آوارہ کتے ، گندے پانی سے بھرے ہوئے فوارے ،  پان کی پیکوں سے آراستہ راہداریاں اوراطراف میں پھیلے کوڑے کے ڈھیر  شہر میں انسانی صحت کے لئے خطرے کا نشان اور ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔

 کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے (کلین کراچی ) شہر کی صفائی کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ انسانی ذہن کی تبدیلی کے بغیر شہر کو صاف کرنا نا ممکن ہے شہر کی صفائی صرف حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کے ساتھ گھر کے بیرونی حصوں کو بھی صاف کرے تاکہ گندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے اگر معاشرہ صفائی کے اس گھمبیر مسئلے میں حکومتی پالیسی کا ساتھ دے تو یقیناً ہم کراچی کو (کلین کراچی ) صاف رکھ سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت اس کے حل کے لئے مختلف حلقوں کے ساتھ ملکر شہر کے گلی کوچوں میں اس ضمن میں آگاہی فراہم کر رہی ہے تاکہ لوگ ہمارا بھر پور ساتھ دیں انہوں نے کہا کہ کلین جناح ہسپتال (جناح پروجیکٹ) کی صفائی ستھرائی میں گو گرین اور سحر ویلفئیر سوسائٹی کا بڑا اہم کردار ہے جنہوں نے طالبعلموں کے ساتھ ملکر جناح ہسپتال کو صاف کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں سے آنے والے تین سو سے زائد رضاکاروں نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کو صاف کرنےمیں پہل کی ہے۔ اس موقع پر کوڑا کرکٹ اورطبی فضلے کو ٹھکانے لگایا گیا اور نکاسی کے نظام کی بھی صفائی کی گئی۔ دیواروں  پر لکھے  سیاسی نعروں پر رنگ پھیرا گیا اور ان کی جگہ پر اثر اور اچھی ترغیبات  کے پیغامات لکھے گئے۔

 یقیناً انہی کو دیکھتے ہوئے دوسرے طبقوں کے لوگ بھی آگے بڑھیں گےاور ایک دن یہ شہر (کلین کراچی ) صاف شفاف ہوگا اس موقع پر سحر ویلفئیر سوسائٹی کے بانی فیضان شوکت نے بتایا کہ وہ کمشنر کراچی کے اس مشن کو جاری وساری رکھتے ہوئے شہر بھر میں پھیلائیں گے جبکہ سحر ویلفئیر سوسائٹی کی صدر اجالا شجاعت نے بتایا کہ ہم نے صفائی ستھرائی کے اس مشن میں ہسپتالوں کو بھی شامل کیا ہے جن کی صفائی سب سے پہلے بہت ضروری ہے کیونکہ جب ہم نے شہر کے مختلف مقامات کا تفصیلی دورہ کیا تو ہسپتالوں کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئے اسی لئے پروجیکٹ جناح یعنی کلین جناح ہسپتال کو شروع کیا تاکہ صفائی کے اس عمل کو مزید بڑھایا جاسکے جبکہ گو گرین کے نائب صدر اسلان علی اور ٹاسک کوآرڈینیٹر زہرہ بتول نے بتایا کہ ہم طالبعلموں نے پاکستان کو خوبصورت بنانا ہے لیکن صفائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہر شہری کو شکایت کرنے اور انگلی اٹھانے کے بجائے اپنی ذمہ داری کا بھی احساس کرنا چاہیئے۔ہمیں ملکر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے گوگرین کمشنر کراچی کے اس مشن کو آگے لیکر بڑھے گی ۔اس موقع پر کمشنر کراچی نے جناح ہسپتال میں پودے لگا کر شجر کاری مہم کا بھی آغاز کیا بلکہ انہوں نے جناح ہسپتال انتظامیہ کو صفائی ستھرائی کا سامان بھی فراہم کیا ۔ کراچی کنٹونمنٹ بورڈ نے اس موقع پر  صفا ئی مہم میں عملہ، پانی کے ٹینکر اور  دیگر ضروری سامان کے ساتھ بھر پور حصہ لیا  اور  کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف انسٹرکشن خالد محمود بھٹہ صاحب نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیئے۔